Sahih al-Bukhari Hadith number: 63
Sahih al-Bukhari Hadith number: 63
حدیث کتاب: علم کا بیان
Book: Statement of Knowledge
باب: حدیث پڑھنے اور محدث کے سامنے پیش کرنے (پڑھنے) کا بیان
Chapter: The Statement of Reading the Hadith and Presenting (Reciting) it to the Muhaddith
حَدَّ ثَنَا مُوسَی بْنُ اِسْمَعِيْلَ قَالَ حَدَّثنَاَ سُلَيْمَانُ بْنُ المٌغِيْرَ ةَ قَالَ حَدَّثنَاَ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ اَنَسٍ قَالَ نُهِيْنَا فیِ القُرآنِ اَنْ نَّساَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ يُعْجِبُنَا اَن يَجِئَ الرَّجُلُ مِنْ اَهْلِ الْبَادِيَةِ فَسَاَلَهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ فَجَائَ رَجُلٌ مِّنْ اَهْلِ الْبَادِيَةِ فَسَالَهُ فَقَالَ اَتَانَا رَسُوْلَکَ فَاَخْبَرَ نَا اَنَّکَ تَزْعَمُ اَنَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ اَرْسَلَکَ قَالَ صَدَقَ فَقَالَ فَمَنْ خَلَقَ السَّمَائَ قَالَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَالْجِبَالَ قَالَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ قَالَ فَمَنْ جَعَلَ فِيْهَا المْنَاَفِعَ قَالَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ قَالَ فَقَاالَّذِيْ خَلَقَ السَّمَائَ وَخَلَقَ الْاَرْضَ وَ نَصَبَ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فَيْهَا المْنَاَفِعَ اللهُ اَرْسَلَکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ زَعَمَ رَسُوْ لُکَ اَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَزَکَوةً فِیْ اَمْوَالِنَا قَالَ صَدَقَ قَالَ بِالَّذِيْ اَرْسَلَکَ الله اَمَرَکَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُوْلُکَ اَنَّ عَلَيْنَا حِجُّ الَبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلاً قَالَ صَدَقَ قَالَ بِالَّذِيْ اَرْسَلَکَ اللهُ اَمَرَکَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَوَالَّذِيْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَا اَزِيْدُ عَلَيْهِنَّ شَيْئاً وَلَااَنْقُصُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنْ صَدَقَ لَيَدْ خُلَنَّ الْجَنَّةَ
ترجمہ
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن مغیرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت نے انس سے نقل کیا، انہوں نے فرمایا کہ ہم کو قرآن کریم میں رسول اللہ ﷺ سے سوالات کرنے سے منع کردیا گیا تھا اور ہم کو اسی لیے یہ بات پسند تھی کہ کوئی ہوشیار دیہاتی آئے اور آپ ﷺ سے دینی امور پوچھے اور ہم سنیں۔ چناچہ ایک دفعہ ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا کہ (اے محمد ﷺ ! ) ہمارے ہاں آپ کا مبلغ گیا تھا۔ جس نے ہم کو خبر دی کہ اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے، ایسا آپ کا خیال ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس نے بالکل سچ کہا ہے۔ پھر اس نے پوچھا کہ آسمان کس نے پیدا کئے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے۔ پھر اس نے پوچھا کہ زمین کس نے پیدا کی ہے اور پہاڑ کس نے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے۔ پھر اس نے پوچھا کہ ان میں نفع دینے والی چیزیں کس نے پیدا کی ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے۔ پھر اس نے کہا کہ پس اس ذات کی قسم دے کر آپ سے پوچھتا ہوں جس نے زمین و آسمان اور پہاڑوں کو پیدا کیا اور اس میں منافع پیدا کئے کہ کیا اللہ عزوجل نے آپ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ ہاں بالکل سچ ہے۔ (اللہ نے مجھ کو رسول بنایا ہے) پھر اس نے کہا کہ آپ کے مبلغ نے بتلایا ہے کہ ہم پر پانچ وقت کی نمازیں اور مال سے زکوٰۃ ادا کرنا اسلامی فرائض ہیں، کیا یہ درست ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اس نے بالکل سچ کہا ہے۔ پھر اس نے کہا آپ کو اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے آپ ﷺ کو رسول بنایا ہے کیا اللہ پاک ہی نے آپ کو ان چیزوں کا حکم فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں بالکل درست ہے۔ پھر وہ بولا آپ کے قاصد کا خیال ہے کہ ہم میں سے جو طاقت رکھتا ہو اس پر بیت اللہ کا حج فرض ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں وہ سچا ہے۔ پھر وہ بولا میں آپ ﷺ کو اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا کہ کیا اللہ ہی نے آپ ﷺ کو یہ حکم فرمایا ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں۔ پھر وہ کہنے لگا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں ان باتوں پر کچھ زیادہ کروں گا نہ کم کروں گا۔ (بلکہ ان ہی کے مطابق اپنی زندگی گزاروں گا) آپ ﷺ نے فرمایا اگر اس نے اپنی بات کو سچ کر دکھایا تو وہ ضرور ضرور جنت میں داخل ہوجائے گا۔ (نوٹ : صنعانی نے کہا یہ حدیث اس مقام پر اسی ایک نسخہ بخاری میں ہے جو فربری پر پڑھا گیا اور کسی نسخہ میں نہیں ہے) ۔
translation
Musa bin Ismail narrated to us, Sulaiman bin Mughirah narrated to us, Thabit narrated to us on the authority of Anas, he said that we were forbidden in the Holy Qur’an to ask the Messenger of Allah ﷺ and That is why we liked it when some wise villager came and asked him about religious matters and we listened. By the way, once a villager came and he said that (O Muhammad ﷺ) your preacher went to us. The one who informed us that Allah has sent you as His Messenger, what do you think? He ﷺ said, “He has told the absolute truth. Then he asked who created the sky? He ﷺ said that Allah Almighty Then he asked who created the earth and who created the mountains? He ﷺ said that Allah Almighty Then he asked who has created the beneficial things among them? He ﷺ said: Allah Almighty Then he said, "So I ask you by the One who created the earth, the sky and the mountains and created profit in it, has Allah Almighty sent you as His Messenger?" He replied that yes, it is absolutely true. (Allah has made me a messenger) Then he said that your preacher has told us that five daily prayers and paying zakat from wealth are Islamic duties, is this correct? He said yes, he has said the truth. Then he said, I ask you by the One who made you a Messenger, did Allah the Exalted command you to do these things? He said yes, that is correct. Then he said, "Your Messenger believes that Hajj to the House of Allah is obligatory on the one who has the strength among us." He said yes, it is true. Then he said, "I ask you by the one who sent you as a Messenger, whether it was Allah who commanded you this." You answered yes. Then he said, "By the One who has sent you with the truth, I will not do more or less on these things." (Rather, I will live my life according to them). (Note: Sanaani said this hadith at this point is in the same version of Bukhari which was recited on Farbari and is not in any version).

Comments
Post a Comment