Sahih al-Bukhari Hadith number: 134
Sahih al-Bukhari Hadith number: 134
کتاب: علم کا بیان
باب: سائل کو اس کے سوال سے زیادہ جواب دینا، (تاکہ اسے تفصیلی معلومات ہو جائیں)
حدیث نمبر: 134
بَاب مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَبَيَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ فَرْضَ الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً وَتَوَضَّأَ أَيْضًا مَرَّتَيْنِ وَثَلَاثًا وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ثَلَاثٍ وَكَرِهَ أَهْلُ الْعِلْمِ الْإِسْرَافَ فِيهِ وَأَنْ يُجَاوِزُوا فِعْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ایمان والو ! جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوجاؤ تو (پہلے وضو کرتے ہوئے) اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لو۔ اور اپنے سروں کا مسح کرو۔ اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھوؤ ۔ امام بخاری (رح) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وضو میں (اعضاء کا دھونا) ایک ایک مرتبہ فرض ہے اور آپ ﷺ نے (اعضاء) دو دو بار (دھو کر بھی) وضو کیا ہے اور تین تین بار بھی۔ ہاں تین مرتبہ سے زیادہ نہیں کیا اور علماء نے وضو میں اسراف (پانی حد سے زائد استعمال کرنے) کو مکروہ کہا ہے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے فعل سے آگے بڑھ جائیں۔
Translation
Allah Ta'ala said, O you who believe! When you stand up for prayer, wash your faces and your hands up to the elbows (first performing ablution). And wipe your heads. And wash your feet up to the ankles. Imam Bukhari (RA) says that the Prophet (PBUH) said that in ablution (washing the limbs) one time is obligatory and he (PBUH) performed ablution twice (even after washing the limbs) and three times. Yes, not more than three times, and the scholars have called israaf (excessive use of water) in ablution as an abomination, so that people should go beyond the actions of the Messenger of Allah ﷺ.

Comments
Post a Comment